Total Pageviews

Wednesday, 3 August 2011

جب تیرے حجر میں مبتلا تھا تو اچھا تھا


جب تیرے حجر میں مبتلا تھا تو اچھا تھا

بھری دنیا میں تنہا تھا تو اچھا تھا

منزل کا کوئ نشان تھا نہ رہبر کا پتہ

فقط راستہ ہی راستہ تھا تو اچھا تھا

 فکر روز-و-شب سے دور غم جانا سے پرے

میں اپنے رب کا بندہ تھا تو اچھا تھا

میرے دیس میں یہ کیسا قانون نافذ ہے اب

حکمران جب یہاں درندہ تھا تو اچھا تھا

سوچتا ہوں دیکھ کر مہزب دنیا کے رنگ

 انسان جب گلی گلی بکتا تھا تو اچھا تھا

نجانے اب کیوں میری ہر خطاء معاف کر دیتا ہے

وہ مجھے رنگے ہاتھوں پکڑتا تھا تو اچھا تھا

کیسا بےرنگ کر گیا مجھے اک شخص کا جانا

وہ میری ذندگی میں رنگ بھرتا تھا تو اچھا تھا

اب محبت بے معنی سی ہو گئ ہے جانا

 میں تیرے روٹھ جانے سے ڈرتا تھا تو اچھا تھا

No comments:

Post a Comment