جب تیرے حجر میں مبتلا تھا تو اچھا تھا
بھری دنیا میں تنہا تھا تو اچھا تھا
منزل کا کوئ نشان تھا نہ رہبر کا پتہ
فقط راستہ ہی راستہ تھا تو اچھا تھا
فکر روز-و-شب سے دور غم جانا سے پرے
میں اپنے رب کا بندہ تھا تو اچھا تھا
میرے دیس میں یہ کیسا قانون نافذ ہے اب
حکمران جب یہاں درندہ تھا تو اچھا تھا
سوچتا ہوں دیکھ کر مہزب دنیا کے رنگ
انسان جب گلی گلی بکتا تھا تو اچھا تھا
نجانے اب کیوں میری ہر خطاء معاف کر دیتا ہے
وہ مجھے رنگے ہاتھوں پکڑتا تھا تو اچھا تھا
کیسا بےرنگ کر گیا مجھے اک شخص کا جانا
وہ میری ذندگی میں رنگ بھرتا تھا تو اچھا تھا
اب محبت بے معنی سی ہو گئ ہے جانا
میں تیرے روٹھ جانے سے ڈرتا تھا تو اچھا تھا
No comments:
Post a Comment